منیلا،12؍نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) پی ایم نریندر مودی منیلا میں چل رہے آسیان کانفرنس میں عشائیہ پر امریکی صدر ٹرمپ سے ملے ہیں ، کل پی ایم مودی کی سرکاری ملاقات امریکی صدر ٹرمپ سے ہوگی ۔ذرائع کے مطابق ملاقات کے لئے تقریباً45۔ 50 منٹ کا وقت دونوں رہنماؤں نے مقرر کیا ہے۔ امریکی صدر سے 5 ماہ کے اندر مودی کی یہ دوسری ملاقات ہے۔ اس سے پہلے واشنگٹن میں مودی اور ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تھی تب پی ایم مودی نے وائٹ ہاؤس میں 4 گھنٹے گزارے تھے۔امریکی صدر سے مودی کی ملاقات اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ٹرمپ کے آنے کے بعد امریکہ نے جنوبی ایشیا کی پالیسی میں تبدیلی کی ہے اور اس میں بھارت کی طرف رجحانات کے واضح اثرات نظر آرہے ہیں ۔ مودی اور ٹرمپ کی ملاقات کو چین کے نقطہ نظر سے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ چین کے توسیع پالیسیوں اور حال ہی میں ڈ وکلام جیسے واقعات ہی ہیں البتہ ساتھ ہی چین کے اوبیر کی طرز پر مشرقی ایشیا کو جوڑنے والے نئے راستے کے پیش نظر بھی یہ اجلاس خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ آسیان کانفرنس کے دوران ہی دروان ہی آسیان ممالک کی بات چیت بھی ہونی ہے لیکن وہ بات چیت سرکاری سطح کی ہوگی۔ اس سے پہلے چاروں ممالک کے رہنما ایک دوسرے سے مل کر شراکت داری کے نکات پر گفتگو کرلیں گے ۔ امریکہ، بھارت، آسٹریلیا، جاپان چاروں ان چاروں ممالک کا اتفاق چین کے لئے تشویش کا سبب ہے۔